پیر، 26 مئی، 2025

یہ 29 جنوری 2020 ہے

آج مورخہ 29 جنوری 2020 یہ عجیب ہی کہانی تھی۔ ہماری بات 22 منٹ تک ہوئی۔ میرے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔ جو کچھ بھی تھا وہ پہلے ہی اسے بتا چکا تھا۔ مجھے اس سے محبت ہو چکی تھی۔ جو بہت مشکل سے ہوئی تھی۔ یعنی میری اس سے دور ہونے کی ہر کوشش نا ممکن ہو گئی تھی۔

مجھے انسان سے بندہ بننے کا نسخہ مل گیا تھا۔

ہم جس طرح ہوا کو مائع اورمائع کو ٹھوس بناسکتے ہیں بالکل اسی طرح لوہےکو تانبا اورتانبےکو سونےمیں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ 

بابا جی نے تانبے کو سونا بنانے کا فن سیکھ لیا تھا اور ہم یہ فن جاننے کے لیے روز ان کے پاس بیٹھ جاتے تھے' کامران کی بارہ دری کی دیواریں آہستہ آہستہ بھربھرا رہی تھی' پرندے دیواروں کا چونا چگنے کے لیے صبح سویرے بارہ دری پہنچ جاتے تھے اوررات تک اس اجڑے دیار کی گری چھتوں اور رکوع میں جھکی دیواروں پرپھرتے رہتے تھے' بابا رات کے وقت راوی کے اس سنسان ٹاپو پر آ تا تھا' وہ مشرق کے رخ بیٹھ کر آلتی پالتی مارتا تھا اور سورج کی پہلی کرن تک وہاں دم سادھ کر بیٹھا رہتا تھا' فجر کے وقت جوں ہی پرندوں کی چونچیں کھلتی تھیں' وہ ایک لمبا سانس لیتا تھا' ایک ٹانگ پر کھڑا ہوتا تھا' باز کی طرح دونوں بازو کھولتا تھا۔

دوسری ٹانگ سیدھی کر کے آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف پھیلاتا تھا اور اڑتے ہوئے پرندے کے آسن میں کھڑا ہو جاتا تھا' وہ سورج چڑھنے تک اس آسن میں رہتے تھے اور اس کے بعد سیدھے ہوتے تھے اور چائے کا ایک بڑا مگ پیتے تھے' ہم ان کے سیدھے ہونے سے قبل ان کے لیے چائے بنا دیتے تھے' وہ چائے بھی نام کی چائے ہوتی تھی' بابا جی دو گھونٹ پانی میں دو گھونٹ دودھ اور چائے کے چار چمچ پسند کرتے تھے' وہ میٹھے سے نفرت کرتے تھے چنانچہ ہم ان کی چائے میں چینی نہیں ڈالتے تھے' وہ اس کے بعد اپنی پتیلی اٹھاتے' پانی میں اترتے اور شڑاپ شڑاپ کرتے ہوئے جنگل میں غائب ہو جاتے' ہم روز سوچتے بابا جی کیسے جانتے ہیں پانی کس کس جگہ کم ہے اور وہ چل کر دریا پار کر سکتے ہیں' ہم روز سوچتے تھے اور ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا تھا' ہم کشتی کھولتے اور چپو چلا کر کنارے پر پہنچ جاتے' ہم بابا جی کے تین شاگرد تھے۔

شاگرد بھی ہم نے خود ہی طے کر لیا تھا' بابا جی نے ہمیں کبھی شاگرد نہیں مانا تھا بلکہ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا تھا وہ شاید ہمارے وجود ہی سے لاتعلق ہیں' وہ ہم سے دس دس دن بات نہیں کرتے تھے اور اگر کبھی بولنا ضروری ہوتا تھا تو ان کی بات چند لفظوں تک محدود ہوتی تھی' وہ سارا دن راوی کے جنگلوں میں غائب رہتے اور شام کے وقت اپنی گڈری اور میلی کچیلی پتیلی کے ساتھ کامران کی بارہ دری پہنچ جاتے ' ہم تینوں ان کے پہنچنے سے پہلے بارہ دری میں ہوتے تھے' بابا جی آتے' ہم پر ایک نگاہ ڈالتے' مشرق کے رخ بیٹھتے اور دم سادھ لیتے' مجھے بابا جی کا پتہ دھرم پورہ کے بابا جی نے دیا تھا' یہ ان کے شاگرد رہے تھے' میں انھیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا کامران کی بارہ دری پہنچا اور میں نے انھیں پا لیا مگر وہ میرے وجود ہی سے لاتعلق تھے' بالکل ان دونوں شاگردوں کی طرح جو مجھ سے پہلے ان کے مرید ہوئے اور جنھیں بابا جی کی سیوا کرتے دو سال بیت چکے تھے۔

میں کہانی کو مختصر کرتا ہوں' بابا جی مدراس کے رہنے والے تھے' بچپن میں جوگیوں کے ہتھے چڑھے اور پھر پوری زندگی جوگ میں گزار دی' پچیس تیس سال قبل لاہور آئے اور راوی کے کناروں کو مسکن بنا لیا' وہ سارا دن جنگل میں غائب رہتے اور شام کے وقت کامران کی بارہ دری آ جاتے اور صبح دس بجے تک وہاں رہتے' دھرم پورے والے بابا جی کا کہنا تھا' یہ بابا جی تانبے کو سونا بنانا جانتے ہیں' انھوں نے خود ایک بار تانبے کی ڈلی سونا بنا کر انھیں گفٹ کر دی' میں ان دنوں کیمیا گری کے بارے میں کتابیں پڑھ رہا تھا' سائنس کہتی تھی کوئی دھات اپنا جون تبدیل نہیں کرتی مگر کیمیا گری کہتی تھی ہم جس طرح ہوا کو مائع اور مائع کو ٹھوس بناسکتے ہیں بالکل اسی طرح لوہے کو تانبا اور تانبے کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور میں ان دنوں اس بات کو سچ سمجھتا تھا اور سچائی کی یہ تلاش مجھے اس باباجی تک لے گئی' بابا دنیا جہاں کی نعمتوں اور ضرورتوں سے مبریٰ تھا' وہ کپڑے روڑی سے نکال کر پہن لیتا تھا' جوتے وہ پہنتا نہیں تھا' وہ کھاتا کیا تھا' ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے' ہم بس اسے کڑوی چائے کا ایک کپ پیتے دیکھتے تھے اور وہ اس کے بعد اپنی پتیلی لے کر جنگل میں غائب ہو جاتا تھا۔

میں کہانی کو مزید مختصر کرتا ہوں' یہ سردی کی سرد رات تھی' میں اس رات بابے کے پاس اکیلا تھا' کامران کی بارہ دری میں بارش ہو رہی تھی' بابا جی بارش میں آسن لگا کر بیٹھے تھے اور میں چھتری تان کر ان کے سر پر کھڑا تھا' بابا جی نے اچانک ایک لمبی ہچکی لی' ان کا سانس اکھڑا اور انھوں نے غصے سے میری طرف دیکھا' میں نے زندگی میں کبھی اتنی خوفناک اور گرم آنکھیں نہیں دیکھیں' میرے پورے جسم میں حرارت دوڑ گئی اور میں سردیوں کی بارش میں پسینے میں شرابور ہو گیا' بابا تھوڑی دیر تک میری طرف دیکھتا رہا' اس نے پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر سے چھتری ہٹائی' گیلی زمین سے اٹھا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا' میں بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا' چھتری بند کی اور ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا' بابے نے لمبا سانس لیا اور بولا '' کاکا تم چاہتے کیا ہو'' میں نے عرض کیا '' کیاآپ کو واقعی سونا بنانا آتا ہے'' بابے نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر بولا '' ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا'' میں نے عرض کیا ''کیا آپ مجھے یہ نسخہ سکھا سکتے ہیں'' بابے نے غور سے میری طرف دیکھا اور پوچھا '' تم سیکھ کر کیا کرو گے'' میں نے عرض کیا '' میں دولت مند ہو جائوں گا'' بابے نے قہقہہ لگایا' وہ ہنستا رہا' دیر تک ہنستا رہا یہاں تک کہ اس کا دم ٹوٹ گیا اور اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا۔

وہ کھانستے کھانستے دہرا ہوا اور تقریباً بے حالی کے عالم میں دیر تک اپنے ہی پائوں پر گرا رہا' وہ پھر کھانستے کھانستے سیدھا ہوا اور پوچھا '' تم دولت مند ہو کر کیا کرو گے'' میں نے جواب دیا '' میں دنیا بھر کی نعمتیں خریدوں گا'' اس نے پوچھا ''نعمتیں خرید کر کیا کرو گے'' میں نے جواب دیا ''میں خوش ہوں گا' مجھے سکون ملے گا'' اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور کہا ''گویاتمہیں سونا اور دولت نہیںسکون اور خوشی چاہیے'' میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا' اس نے مجھے جھنجوڑا اور پوچھا '' کیا تم دراصل سکون اور خوشی کی تلاش میں ہو؟'' میں اس وقت نوجوان تھا اور میں دنیا کے ہر نوجوان کی طرح دولت کو خوشی اور سکون سے زیادہ اہمیت دیتا تھا مگر بابے نے مجھے کنفیوز کر دیا تھا اور میں نے اسی کنفیوژن میں ہاں میں سر ہلا دیا' بابے نے ایک اور لمبا قہقہہ لگایا اور اس قہقہے کا اختتام بھی کھانسی پر ہوا' وہ دم سنبھالتے ہوئے بولا '' کاکا میں تمہیں سونے کی بجائے انسان کو بندہ بنانے کا طریقہ کیوں نہ سکھادوں'میں تمہیں دولت مند کی بجائے پرسکون اور خوش رہنے کا گر کیوں نہ سکھادوں'' میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا' وہ بولا '' انسان کی خواہشیں جب تک اس کے وجود اور اس کی عمر سے لمبی رہتی ہیں۔

یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے' تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجودسے چھوٹا کر لو' تم خوشی بھی پائو جائو گے اور سکون بھی اور جب خوشی اور سکون پا جائو گے تو تم انسان سے بندے بن جائوگے'' مجھے بابے کی بات سمجھ نہ آئی' بابے نے میرے چہرے پر لکھی تشکیک پڑھ لی' وہ بولا '' تم قرآن مجید میں پڑھو' اللہ تعالیٰ خواہشوں میں لتھڑے لوگوں کو انسان کہتا ہے اور اپنی محبت میں رنگے خواہشوں سے آزاد لوگوں کو بندہ'' بابے نے اس کے بعد کامران کی بارہ دری کی طرف اشارہ کیا اور بولا '' اس کو بنانے والا بھی انسان تھا' وہ اپنی عمر سے لمبی اور مضبوط عمارت بنانے کے خبط میں مبتلا تھا' وہ پوری زندگی دولت بھی جمع کرتا رہا مگر اس دولت اور عمارت نے اسے سکون اور خوشی نہ دی' خوش میں ہوں' اس دولت مند کی گری پڑی بارہ دری میں برستی بارش میں بے امان بیٹھ کر'' میں نے بے صبری سے کہا '' اور میں بھی'' اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا '' نہیں تم نہیں! تم جب تک تانبے کوسونا بنانے کا خبط پالتے رہو گے تم اس وقت تک خوشی سے دور بھٹکتے رہو گے۔

تم اس وقت تک سکون سے دور رہو گے'' بابے نے اس کے بعد زمین سے چھوٹی سی ٹہنی توڑی اور فرش پر رگڑ کر بولا '' لو میں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں' اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو' جو مل گیا اس پر شکر کرو' جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو' جو مانگ لے اس کو دے دو' جو بھول جائے اسے بھول جائو' دنیا میں بے سامان آئے تھے' بے سامان واپس جائو گے'سامان جمع نہ کرو' ہجوم سے پرہیز کرو' تنہائی کو ساتھی بنائو' مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو' جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کاکبھی احتساب نہ کرو' بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے' کوئی پوچھے تو سچ بولو' نہ پوچھے تو چپ رہو' لوگ لذت ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام لذتوں کا انجام برا ہوتا ہے' زندگی میں جب خوشی اور سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جائو' تمہیں راستے میں سکون بھی ملے گا اور خوشی بھی' دینے میں خوشی ہے' وصول کرنے میں غم' دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جائو گے' چوروں میں رہو گے تو چور ہو جائو گے۔

سادھوئوں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائے گا' اللہ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا' وہ ناراض ہو گا تو نعمتوں سے خوشبو اڑ جائے گی' تم جب عزیزوں' رشتے داروں' اولاد اور دوستوں سے چڑنے لگو تو جان لو اللہ تم سے ناراض ہے اور تم جب اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا'' بابے نے ایک لمبی سانس لی' اس نے میری چھتری کھولی' میرے سر پر رکھی اور فرمایا'' جائو تم پر رحمتوں کی یہ چھتری آخری سانس تک رہے گی' بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہ چھوڑنا' دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا' یہ اللہ کی سنت ہے' اللہ کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا' مخلوق اللہ کو چھوڑتی ہے اور دھیان رکھنا جو جا رہا ہو اسے جانے دینا مگرجو واپس آ رہا ہو' اس پر کبھی اپنا دروازہ بند نہ کرنا' یہ بھی اللہ کی عادت ہے' اللہ واپس آنے والوں کے لیے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے' تم یہ کرتے رہنا' تمہارے دروازے پر میلا لگا رہے گا'' میں واپس آ گیا اور پھر کبھی کامران کی بارہ دری نہ گیا کیونکہ مجھے انسان سے بندہ بننے کا نسخہ مل گیا تھا۔

جمعرات، 14 مئی، 2020

سوال؟

Ab mazed koi bat ni kuch swal thay jin k jawab mil gayy hn.no relation.just go..........

کن سوالوں کے جواب لیکن میرے ذہن میں خلش باقی ہی ہے؟ آپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟ کون سے سوال تھے کون سے جواب چاہیے تھے؟ کم از کم مجھے بھی تسلی تو دو ذرا؟ میں تو وہیں پر ہی کھڑا ہوں 😭😢
کتنی سنگدل ہو چکی ہو بنا حقیقت جانے ۔۔ 
مطلب اگر حقیقت کو سمجھو تو شاید آج بھی میں آپ کے لیے وہی ہی ہوں۔۔۔
میرا نہیں خیال آپ کو کچھ سمجھ لگی ہوگی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں اور کیا سننا چاہ رہا ہوں۔۔
میرا اس میں قصور کیا ہے مجھے وہ بھی جاننا ہے؟
میں نے کوئی غلطی کی وہ بھی جاننا ہے؟
اگر غلطی کی تو اس کی سزا بھی دی جا سکتی ہے؟
کچھ سمجھنے کی کوشش کریں میں کس کرب سے گزر رہا ہوں 😢😭😢
جس کرب سے آپ گزر رہی تھیں 😢😰😢
میری حالت اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔۔۔
پتہ ہے آنٹی ر۔۔۔۔ کیا کہتی؟؟
وہ تو آپ پر الزام عائد کررہی تھیں کہ ر۔۔ کو تم سے محبت تھی ہی نہیں؟
لیکن میں یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور نہ ہی ہوں۔۔۔

Kuch dastanay adhori hi rah jay to axha hota ha.muj may himat ni ab.sab say vada kia ha k dubara kabi kuch ni karon gi .........sorry

کیا میں انتظار کر سکتا ہوں یا پھر اب آپ اپنی زندگی کے فیصلوں سے بھی دستبردار ہو چکی ہیں؟ یعنی اگر کچھ ممکن بھی ہوا تو وہ بھی نہیں کریں گی۔

معافی تو مجھے مانگنی چاہیے ویسے بہت دور نکل گیا تھا لیکن آپ نے ہاتھ تھام کر روک لیا اور اب ایسے قدم رکے ہیں وہاں پر کہ آگے جانے کا نام ہی نہیں لے رہے 😢😭 جیسے کسی نے بہت سختی سے باندھ  ڈالے ہوں؟
قدموں میں اب آگے اٹھنے کی سکت ہی ختم ہو چکی ہے اور اب یہیں کھڑے ہو کر انتظار کرتا ہوں آپ کے لوٹ آنے کا یا پھر اپنی موت کا۔۔۔


غلط فہمی

آپ کو شاید میری بات کی سمجھ ہی نہیں لگی۔ دور کا مطلب یہ نہیں کہ میں آپ سے بھی دور تھا اس میں آپ کو تو میں نے شامل ہی نہیں کیا۔ میں جب تک آپ سے کچھ حقائق جان نا لیتا تو کیسے اپنا موقف ان کے سامنے رکھتا۔ صرف خاموشی کی ایک ہی وجہ تھی آپ کو ان کی نظروں میں صاف کر سکوں۔ تاکہ وہ لوگ صرف یہ سمجھیں کہ اتنی بڑی بات بالکل نہیں ہے جتنی ہم لوگ اچھال رہے ہیں اور آپ کے حوالے سے ان کی بدگمانی دور ہو سکے۔ 
لیکن آپ مجھ سے ہی بدگمان اور مجھ پر سے ہی بھروسہ توڑ ڈالا 😰😭
آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا؟ 
کیا میں ایسا کچھ کر سکتا ہوں جس سے آپ کی عزت پر داغ آئے؟ 
جو شخص اپنا سب کچھ آپ پر قربان کرنے کو تیار ہو۔ 
جس کی نظروں میں اپنا آج اور اپنا کل صرف آپ ہو۔۔
اس کے متعلق آپ نے اتنی جلدی بغیر کسی وضاحت اور بنا موقف جانے اتنا سب کچھ سوچ لیا؟
ہاں اگر میرا موقف جاننے اور میری سوچ جان لینے کے بعد اگر آپ کو محسوس ہوتا کہ میں نے کچھ غلط کیا تو یقیناً آپ کو حق حاصل تھا لیکن بنا سنے بنا جانے 😭😭😰🙏
آپ کو اب بھی آج بھی ہر لمحہ ہر وقت دعاؤں میں مانگتا ہوں  😰🙏
بھولنے کا یا آپ کوچھوڑنے کے تصور سے ہی دنیا اندھیر سے لگنے لگتی ہے 😭😭😭
اور آپ نے ایک لمحے میں ہی میرے متعلق اتنی بدگمانی پال لی ۔۔۔
کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس بھی ہوا مجھ سے بات کرنے کے دوران کہ میں آپ کے لیے کچھ برا سوچ سکتا ہوں 😭😭
میں صرف آپ کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا چاہتا ہوں اور کسی کے سامنے ضرورت ہی نہیں بنتی۔۔


Or hr jaga mujay glt sabet kr dia es trha.sab ko laga k sari glti mari ha mara hi demag khrab ha or ap ko koi kasor hi ni ha...............

میں اس وقت تک کچھ بول نہیں سکتا تھا جب تک مجھے معلوم نہ ہوجاتا کہ آپ نے ان سے کیا کہا آپ کا کیا موقف ہے؟ کیا بات ہوئی ۔ کچھ کم زیادہ ہو جاتا تو بات شاید زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ خاموشی بہت سے مسائل کا حل ہوتی ہے ایسا میرا خیال تھا تو میں بھی بس  اسی  وجہ سے چپ رہا۔ پہلے بھی سمجھایا اب بھی سمجھا رہا ہوں کہ آپ کے دل کی بات جانے بغیر کیسے سب کچھ کہہ دیتا؟

لیکن پھر بھی مجھے لگ رہا ہے میں نے  یہ سب جو کچھ بھی کیا انجانے میں کیا مجھے ان کے سامنے سب کچھ بیان کر دینا چاہیے تھا (یہ آپ کا بھی خیال تھا شاید) اس کے لیے مجھے معاف کر دینا 🙏😰😰
افطاری کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔

پلیز کبھی غلط فہمی مت پالنا میرے متعلق مجھے آپ کے کچھ الفاظ سے شدید تکلیف پہنچی تھی لیکن جو میرے لیے وہ تکلیف بھی کسی محبت سے کم نہیں تھی۔ میرے دل میں آپ کی پہلے سے بھی زیادہ عزت بڑھ چکی ہے۔
میں سمجھ سکتا ہوں آپ کی تکالیف کو😭😢
مجھے یقین ہے آپ کس کرب سے گزر رہی ہیں 😭😢
میرا وہ ر۔۔۔۔ سے آپ لوگوں کو فون کروانے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سمجھاتیں کہ اتنا آگ بگولہ ہونے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔ معاملات کو زیادہ اچھالنے سے بات بگڑتی ہے نہ کہ سنورتی ہے۔ لہذا مہربانی فرما کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں دیکھیں اور سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت عطا کرے۔

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے !
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو !
نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو !
ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو !
ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے ‘‘
کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘
گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا !
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘
محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں
تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھا م کر
دھیرے سے کہتا ہے
’’یہ سچ ہے نا !
ہماری زند گی اک دو سرے کے نام لکھی تھی !
دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
ا سی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی
تمہیں مجھ سے محبت ہے !!‘‘
محبت کی طبعیت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !